امریکی سینیٹ میں اکثریتی لیڈر چک شومر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ میں بمباری کے دوران ‘اپنا راستہ کھو چکے ہیں’ لہذٰا اسرائیل میں فوری طور پر نئے انتخابات ہونے چاہئیں۔
چک شومر کا شمار امریکہ میں اعلٰی ترین یہودی عہدے داروں میں ہوتا ہے اور وہ اسرائیل کے دیرینہ حلیف ہیں۔
جمعرات کو سینیٹ میں اپنے خطاب میں شومر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کے اقدامات کی وجہ سے اسرائیل کے عالمی سطح پر تنہا ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈیمو کریٹک رہنما چک شومر کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں اپنی کارروائیوں کے دوران سویلین ہلاکتوں کی وجہ سے اپنی عالمی حمایت کو تاریخ کی کم ترین سطح کی طرف دھکیل رہا ہے۔
گزشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے حملے میں 1200 افراد کی ہلاکت اور 240 کو یرغمال بنائے جانے کے بعد اسرائیل کی غزہ میں کارروائیاں جاری ہیں۔
غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اب تک 31 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
لڑائی کے دوران غزہ میں رہنے والے 21 لاکھ سے زائد افراد میں سے نصف بے گھر ہوچکے ہیں جب کہ 41 کلومیٹر طویل زمینی پٹی میں کئی عمارتیں اور مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔
