امریکہ کے جنگی طیاروں نے صومالیہ میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کارروائی میں متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اصل ہدف داعش کا ایک سینئر منصوبہ ساز اور اس کے بھرتی کیے گئے دہشت گرد تھے۔
اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ غاروں میں چھپے ہوئے یہ قاتل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ تھے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملوں میں وہ غار تباہ کردیے گئے ہیں جہاں یہ دہشت گرد رہتے تھے۔ کسی عام شہری کو نقصان پہنچائے بغیر کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
ایک بیان میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ یہ حملے صومالیہ کے گولس پہاڑی سلسلے میں کیے گئے ہیں جن سے داعش کی امریکی شہریوں، ہمارے اتحادیوں اور عام شہریوں کے لیے خطرات پیدا کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔
صدر ٹرمپ یا وزیرِ دفاع ہیگسیتھ نے حملے میں ہلاک ہونے والے داعش کے منصوبہ ساز کا نام نہیں بتایا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی صومالیہ کی مرکزی حکومت کے تعاون سے کی گئی ہے۔
یہ کارروائی صومالیہ کے نیم خود مختار صوبے پنٹلینڈ میں کی گئی ہے جس کی فورسز کے جنرل عدنان عبدی ہاشی نے کہا ہے کہ امریکہ نے گولس پہاڑی سلسلے میں داعش کے کم از کم 10 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن ٹھکانوں پر حملے کیے گئے ہیں وہ زیادہ تر غاروں میں تھے اور ان میں موجود بیشتر جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔
پنٹلینڈ کے کئی حکام نے سوشل میڈیا پر اس آپریشن کو کامیابی قرار دیتے ہوئے امریکہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
افریقہ میں امریکی فوج کی سرگرمیوں اور کوششوں کی نگرانی کرنے والی یو ایس افریقہ کمانڈ کا بھی کہنا ہے کہ اس کے جائزے کے مطابق اس حملے میں داعش کے متعدد جنگجو اور کارندے ہلاک ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق صومالیہ میں 2022 سے داعش کا نیٹ ورک موجود ہے جو افریقہ اور افغانستان سے مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ یہ خطے میں اس کے دیگر نو نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔
ہفتے کو ہونے والا حملہ رواں برس صومالیہ میں داعش کے خلاف امریکہ کی پہلی کارروائی ہے۔
صومالیہ کی وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ کی یہ کارروائی صومالیہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے انتہائی اہم اقدام ہے۔