اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی میں بڑی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فوج فلسطینی علاقے کے ایک ’بڑے حصے‘ پر قبضہ کرنے جا رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’کارروائی میں توسیع سے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا جائے گا جسے اسرائیلی سکیورٹی زونز کا حصہ بنا لیا جائے گا۔‘تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسرائیل کتنے حصے پر قبضے کرنے جا رہا ہے۔
غزہ میں تقریباً دو ماہ تک قائم رہنے والے سیز فائر معاہدے کے اختتام کے بعد 18 مارچ کو اسرائیل نے دوبارہ سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
اسرائیل کی جانب سے دوبارہ شروع کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اب تک فلسطینی علاقے میں 1ہزار 42 افراد قتل کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ صحت نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مارے جانے والے 41 افراد بھی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک اموات کی مجموعی تعداد 50 ہزار399 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملے میں گذشتہ 10 روز کے دوران کم از کم 322 بچے قتل اور 609 زخمی ہوئے ہیں۔
یونیسیف نے گذشتہ دنوں ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’تقریباً 18 ماہ کی جنگ کے بعد اب تک 15 ہزار سے زائد بچے قتل، 34 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں اور تقریباً 10 لاکھ بچے بار بار بے گھر ہوئے ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔‘