بحیرہ روم میں یونانی جزیرے لیسبوس کے قریب اور ترکیہ کے ساحل کے نزدیک کشتیاں الٹنے سے مجموعی طور پر 16 تارکین وطن ہلاک ہوگ۔
رپورٹ کے مطابق یونانی جزیرے لیسبوس کے قریب مہاجرین کی ایک کشتی الٹنے سے دو بچوں سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 23 دیگر کو بچالیا گیا۔
یونانی کوسٹ گارڈز کے ترجمان کے مطابق بحیرہ ایجیئن میں ابتدائی طور پر چار لاشیں ملی تھیں لیکن پھر گشتی کشتیوں کے ذریعے تلاش کے بعد تین دیگر لاشیں بھی ملی ہیں۔
کشتی میں تقریباً 30 افراد سوار تھے جو ترکیہ کے ساحل سے کچھ فاصلے پر الٹ گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ معتدل موسم کے باوجود کشتی میں پانی بھر گیا تھا جس کی وجہ سے وہ ڈوب گئی۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مرنے والوں میں چار خواتین، ایک لڑکا اور ایک لڑکی شامل ہیں، جبکہ کسی دوسرے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔
یونان کے مشرقی بحیرہ روم میں یورپ کے انتہائی جنوب مشرق میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کے جزائر کو ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے مغربی یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے غیر قانونی مہاجرین کے لیے ایک عام راہ گزر بنادیا ہے۔
دریں اثنا ترکیہ کے حکام نے بتایا کہ ترکیہ کے مغربی ساحل کے قریب کشتی ڈوبنے سے 9 تارکین وطن ہلاک ہوگئے جبکہ مزید 25 کو بچا لیا گیا۔
مقامی گورنر کے دفتر اور کوسٹ گارڈز کے مطابق یہ واقعہ آیواجک ضلع کے ساحل کے قریب پیش آیا۔
گورنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ تلاش اور بچاؤ کی کوششوں کے نتیجے میں 9 لاشیں ملی ہیں اور 25 مہاجرین کو بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک لاپتا شخص کی تلاش جاری ہے۔
ہلاک شدگان کی قومیتیں فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 2500 افراد کی موت کی رپورٹس موصول ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق سال کے آغاز سے اب تک تقریباً 9000 افراد یونان میں داخل ہوئے ہیں، جن میں سے بیشتر سمندر کے راستے آئے ہیں۔
ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 54000 سے زائد افراد یونان میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
یونان کی قدامت پسند حکومت نے تارکین وطن کے حوالے سے اپنے موقف کو سخت کر دیا ہے۔