بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
نوبل انعام یافتہ اور نگراں حکومت کے رہنما محمد یونس نے کہا ہے کہ ان کا شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت پرپابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
ایک حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ سابقہ حکومت میں جن افراد پر قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ہے، ان کے خلاف بنگلہ دیش کی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔
شیخ حسینہ کی عوامی لیگ پر ان کے 15 سالہ دورِ حکومت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان کی حکومت نے گزشتہ برس کی احتجاجی تحریک پر کریک ڈاؤن کیا جس میں 800 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اپنے ساتھیوں کی موت پر ابھی تک غمزدہ طلبہ رہنماؤں نے شیخ حسینہ واجد کی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ برس کے احتجاجی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں عبوری حکومت نے عوامی لیگ کے طلبہ ونگ پر پابندی عائد کر دی تھی۔
طلبہ کی حمایت یافتہ نئی سیاسی جماعت کے رہنما حسنات عبداللہ نے ایک فیس بک پوسٹ میں حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عوامی لیگ پر پابندی عائد کی جائے۔‘