پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد سے لاپتہ کم عمر بہن بھائی گھر پہنچ گئے ہیں
بچوں کے بیان کے بعد کہانی میں نیا ٹوئسٹ آگیا ہے۔ بچوں نے گھر پہنچ کر بتایا کہ وہ خود گھر سے گئے تھے کیونکہ ان کی خالہ ان سے واشروم اور برتن دھلواتی تھیں اور ان پر تشدد کرتی تھیں۔
بچی انابیہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اپنی مرضی سے گھر سے نکلے تھے، گھر سے دکان چیز لینے گئے تھے، دکان کے بعد انکل انٹی کے گھر گئے تھے، ماموں کے گھر میں ڈانٹ اور مار پٹتی تھی، ماموں کے گھر میں ہم سے صفائی کروائی جاتی تھی۔
بچوں کی بازیابی پر پولیس اور رینجرز میں بھی ٹھن گئی، دونوں ہی بچوں کے ملنے کا کریڈٹ لینے لگے
سندھ رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان رینجرز سندھ نے اغواء برائے تاوان کی واردات کو ناکام بنایا۔
دوسری جانب سینٹرل پولیس کے ترجمان ذیشان شفیق صدیقی کا کہنا ہے کہ گمشدہ بچے ایان اور انابیہ کو سینٹرل پولیس نے بازیاب کرایا۔
ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی کا کہنا ہے کہ بچوں کو نارتھ ناظم آباد کی حدود سے ہی بازیاب کرایا گیا ہے، ضابطے کی کارروائی عمل میں لانے کے بعد بچوں کو والد کے حوالے کردیا گیا۔
ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی کا کہنا تھا کہ بچے خوداپنی مرضی سے گھر سے گئے تھے، بظاہر لگتا ہے کہ بچے گھر والوں سے ناراض تھے۔
گزشتہ روز ایان اور انابیہ کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک ایچ سے پراسرار طور پر لاپتا ہوگئے تھے، ایان اور انابیہ گھرسے فاسٹ فوڈ لینے کیلئے گئے واپس نہ آئے، والدہ کی جانب سے بچوں کی تلاش کیلئے سوشل میڈیا پر بھی مدد کی اپیل کی گئی تھی۔
بچوں کے والد نے 8 سال قبل اہلیہ سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، ان کی والدہ دبئی میں ملازمت کرتی ہیں، دونوں بچے اپنے ماموں راشد کے ساتھ ہی رہتے تھے۔