امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں بمباری کی دھمکی کے بعد ایران کو براہ راست مذاکرات کی تجویز دے دی۔
صحافیوں سے گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ براہ راست سفارت کاری کے امکان کے بارے میں پُر امید نظر آئے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے ایران امریکہ سے براہ راست بات چیت کرنے کا خواہاں ہے۔ ’میرے خیال میں یہ بہتر ہے کہ ہم براہ راست بات چیت کریں، اگر آپ ثالثی کریں تو دوسرے فریق کو بہتر سمجھتے سکتے ہیں۔‘
امریکی صدر نے انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی اور ایرانی حکام اس حوالے سے آپس میں بات چیت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہیں کیا تو بمباری ہوگی، اگر وہ معاہدہ نہیں کرتا تو میں اس پر ٹیرف بھی عائد کروں گا جیسا کہ میں نے چار سال پہلے بھی کیا تھا۔
گزشتہ ماہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انہوں جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کا مطالبہ کیا تھا جبکہ انہوں نے تہران کو حملوں کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔
تاہم ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا وہ بالواسطہ سفارت کاری پر رضامند ہے۔