نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی میں ڈیل کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومت کسی ڈیل کا حصہ کیوں ہوگی؟
انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب ایک عدالتی فیصلے کے تحت ملک سے باہر گئے تو اس وقت عمران خان کی حکومت تھی، اس وقت نہ تو اس نگراں سیٹ اپ اور نہ ہی پی ڈی ایم جماعتوں کی حکومت تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر کچھ قانونی سوالات کا سامنا کرنا ہوگا اور ان سوالات کے جوابات بھی قانونی ہیں۔
نگراں وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان سمیت کسی بھی سیاسی شخصیت کے بارے میں جو بھی کوئی فیصلہ ہوگا وہ عدالتی عمل کے نتیجے میں ہوگا۔ اگر عدالتی عمل کے نتیجے میں عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملتی ہے تو وہ حصہ لیں گے لیکن اگر نہیں تو میں کیسے اس پابندی کو ختم کر سکتا ہوں۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ان کی الیکشن کمیشن آف پاکستان سے جتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں ان کے مطابق انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں اور انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے لیکن انتخابات میں سکیورٹی کے حوالے سے خدشات دور کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ الیکشن کمیشن جنوری میں انتخابات کے حوالے سے اپنے انتظامات کافی حد تک مکمل کر چکا ہے، حلقہ بندیوں سمیت دیگر معاملات پر کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔