ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ممالک کے شہریوں پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کے عمل کو روک دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس سے جب یہ پوچھا گیا کہ ویزا اور سفری پابندیوں سے متعلق سفارشات کے حوالے سے صدر کو رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن کیا ہے؟ تو انہوں نے 31 مارچ کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’ہدف کی تاریخ‘ کا اطلاق اب نہیں ہوتا۔
اس سے قبل 21 مارچ کو ٹیمی بروس نے اعلان کے بارے میں قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ڈیڈ لائن آج نہیں ہے‘۔
اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ایک نظر ثانی کا عمل اب بھی جاری ہے، تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لے سکیں کہ ویزوں کے معاملے سے نمٹنے میں امریکا کو کس چیز سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی اور کس کو ملک میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔
تازہ ترین پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ ’ایگزیکٹو آرڈرز پر کام کر رہا ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے‘۔
یہ پوچھے جانے پر کہ تاریخ کیوں ملتوی کی گئی، انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں بات نہیں کر سکتی، لیکن میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں کہ ایگزیکٹو آرڈر میں کیا کہا گیا ہے جو کہ سفری پابندی نہیں ہے، بلکہ دوسرے ممالک کی پابندیوں کی نوعیت ہے، آیا وہ امریکا میں داخلے کے لیے ضروری سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔