پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن ( پی آئی اے) کی فلائٹ اٹینڈنٹ (میزبان) کینیڈا میں ہی لاپتہ ہو گئیں جس کی تصدیق پی آئی اے کے ترجمان نے بدھ کو کی ہے اور بتایا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
فلائٹ اٹینڈنٹ مریم رضا اسلام آباد سے ٹورنٹو جانے کی پرواز نمبر پی کے 782 پر تعینات تھیں تاہم واپسی کی فلائٹ پر ڈیوٹی پر رپورٹ نہ کرنے اور ان کی عدم موجودگی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ کینیڈا میں ہی رہ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مریم رضا کے کمرے میں موجود ان کے یونیفارم پر ’شکریہ پی آئی اے‘ کا نوٹ لکھا ہوا تھا، جسے وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر گئیں۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ ’یہ بہت گھمبیر مسئلے ہیں، آپ جتنی بھی لوگوں کی پروفائلنگ کر لیں، یہ رک نہیں سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وہاں (کینیڈا) سیاسی پناہ لینا بہت آسان ہے، ان کے قوانین یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے ان کی سرحد کراس کر لی ہے تو آپ پناہ لے سکتے ہیں
انہوں نے بتایا کہ ’اس معاملے پر انکوائری شروع ہو چکی ہے، جس کے بعد جلد ان خاتون کو نوکری سے بھی برخواست کر دیا جائے گا۔‘ ترجمان نے بتایا کہ ’اس سارے معاملے پر کینیڈین بارڈر سروسز ایجنسی سے بھی وہ رابطے میں ہیں کہ کسی طریقے سے اس سب کو روکا جا سکے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے گئے لیکن کوئی بھی کارآمد ثابت نہیں ہوسکا۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق رواں سال میں یہ دوسرا واقع ہے جب پی آئی اے کی فلائٹ اٹینڈنٹ کینیڈا سے غائب ہو گئیں، جنوری میں اسکپ ہونے والی خاتون کا نام سونیا تھا، جن کا تین سال کا بیٹا تھا، جسے وہ پاکستان چھوڑ کر کینیڈا میں ڈیوٹی کے دوران سکپ ہو گئیں۔
