پاکستان کے مختلف علاقوں میں مون سون کے زیر اثر بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
پنجاب کے شہر لاہور میں بارشوں کا 44 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے جہاں یکم اگست کو 360 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
لاہور میں سب سے زیادہ ایئرپورٹ پر 360 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، پانی والا تالاب میں 319 جبکہ لکشمی چوک میں 242 ، اپرمال میں 218، مغلپورہ میں 222، تاجپورہ میں 260، نشترٹاؤن میں 312، چوک ناخدا میں 259 ملی میٹر بارش ہوئی۔
بارش کے باعث لیسکو کے 400 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔
ناقص انتظامات ہونے سے میو اور سروسز اسپتال کی ایمرجنسی میں بارشی پانی داخل ہوگیا جبکہ میو اسپتال کا آئی سی یو بھی زیر آب آگیا جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ادھر جنرل اسپتال بھی پانی میں ڈوب گیا، مختلف وارڈز میں پانی داخل ہوگیا، ہسپتال میں پانی جمع ہونے سے علاج معالجہ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارش کے باعث نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں میں بارشوں کے باعث کم از کم تین افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بوسیدہ اور خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے باعث جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور دو بچے شامل ہیں۔
خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام کاغان اور ناران کے درمیان سڑک پر موجود مہانڈری منور نالہ میں دوبارہ سیلاب امڈ آیا ہے جس کے بعد پل کی بحالی پر مامور اہلکار محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے۔
دریائے کنہار میں دو روز قبل بارشوں اور سیلابی ریلے کے باعث مہانڈری بازار کے مقام پر رابطہ پل بہہ گیا جس سے ناران اور کاغان کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔
اس پل کی بحالی کے لیے بچھائے گئے پائپ جمعرات کے روز سیلابی ریلہ بہا کر لے گیا جس کے بعد سڑک بحالی کا کام پھر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پچھلے تین روز کے دوران آندھی، تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مختلف حادثات کے نتیجے میں پچھلے تین روز کے دوران 24 افراد ہلاک جبکہ 17 افراد زخمی ہوئے.
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چھ مرد چھ خواتین اور 12 بچے شامل ہیں۔