Friday, April 12, 2024, 9:23 PM
**توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید کی سزا **دونوں ملزمان دس سال کے لئے عوامی عہدہ رکھنے کے لئے نااہل قرار **احتساب عدالت نے مجرمان پر 1 ارب 57کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا **عدالت نے عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کئے بنا ہی فیصلہ سنادیا **احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلہ سنایا
بریکنگ نیوز
Home اہم ترین اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کےلیے قریب ہوتے جا رہے ہیں، محمد بن سلمان

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کےلیے قریب ہوتے جا رہے ہیں، محمد بن سلمان

ہمیں امید ہے ایک دن مسئلہ فلسطین حل ہوگا اور فلسطینیوں کی زندگی آسان ہوگی، سعودی ولی عہد

by NWMNewsDesk
0 comment

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ اب تک ہمارے اچھے مذاکرات کے ادوار گزرے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے قریب آتے جا رہے ہیں مگر ہمارے لیے مسئلہ فلسطین بہت اہم ہے، ہمیں امید ہے ایک دن فلسطین کا مسئلہ حل ہوگا اور فلسطینیوں کی زندگی آسان ہوگی۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات معطل ہو چکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ’ نہیں، یہ سچ نہیں ہے۔

banner

محمد بن سلمان نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرتا ہے تو ہمیں بھی اسے رکھنے کی ضرورت ہوگی، سعودی عرب کو کسی بھی ملک کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا استعمال کرنے پر تشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا ایک نئے ہیروشیما کو برداشت نہیں کرسکتی، اگر آپ ایٹمی ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو آپ کو باقی دنیا سےبھی لڑائی لڑنا پڑے گی، جوہری ہتھیار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں،انہیں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ولی عہد نے کہا ’سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کےلیے مارچ میں چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے تہران کے ساتھ تعلقات اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں اور امید ہے خطے کی سلامتی اور استحکام کے فائدے کے لیے ایسا کرتے رہیں گے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن امریکہ سمیت سعودی عرب کا بھی دشمن تھا، اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ نے سعودی عرب کو بھی نقصان پہنچایا۔

سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہمارے بہت سے مسائل تھے مگر اب ہم بڑے وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، ہماری ترجیح معیشت کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے، ہم جلد ہی دنیا کی مضبوط ترین معیشت کے طور پر دنیا میں کھڑے ہونگے۔

ان کا کہنا تھا ’اوپیک کا تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ مارکیٹ کے استحکام پر مبنی ہے اور اس کا مقصد روس کو یوکرین میں اپنی جنگ لڑنے میں مدد کرنا نہیں تھا۔

ہم صرف رسد اور طلب پر نظر رکھتے ہیں۔ اگر رسد کی کمی ہے تو اوپیک پلس میں ہمارا کردار اس کمی کو پراکرنا ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ سپلائی ہوتی ہے تو اوپیک پلس میں کردار مارکیٹ کے استحکام کےلیے اقدامات کیے جائیں۔

مزید پڑھیے

مضامین

بلاگز

کوئک لنکز

رازداری کی پالیسی
رائے
رابطہ کریں
اشتہارات

سائنس و ٹیکنالوجیگوگل سرچ میں صارفین کے تحفظ کے لیے 3 بہترین پرائیویسی فیچرز کا اضافہگوگل سرچ میں صارفین کے تحفظ کے لیے 3 بہترین پرائیویسی فیچرز کا اضافہ
دم توڑتے ستارے کی دنگ کر دینے والی تصاویر
واٹس ایپ کا نیا فیچر جو اس کی ایک بڑی خامی دور کر دے گا
کچھ عرصے سے گوگل اکاؤنٹ استعمال نہیں کیا؟ تو وہ اس تاریخ کو ڈیلیٹ ہو جائے گا

 جملہ حقوق محفوظ ہیں   News World Media. © 2023