117
سعودی عرب کے یوم تاسیس پر سعودی بچے نے اونٹ کے بالوں سے تیار کردہ سعودیہ کے نقشے پر مبنی فن پارہ تیار کیا ہے۔
14 سالہ یزید الشھرانی کے والد علی الشھرانی نے بتایا کہ فن پارے کو تیار کرنے میں انہوں نے مدد کی لیکن اس حوالے سے آئیڈیا اور تیاری ان کے بیٹے نے کی ہے۔
علی الشھرانی نے کہا کہ اس فن پارے کو دنیا کا مہنگا ترین کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک طرح کی دستاویز بھی ہے۔ جو ہماری تہذیبی اور ثقافتی تاریخ کی عکاس ہے۔
اس فن پارے کو تیار کرنے کے لیے اونٹ کے بال اور خالص اون کا استعمال کیا گیا ہے۔
یزید الشھرانی نے فن پارے کے حوالے سے کہا کہ اس کی تیاری میں دس ماہ لگے۔ یہ فن پارہ ملک سے محبت اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہونے کے باعث مکمل ہو سکا کیونکہ یہ ایک مشکل کام تھا۔
