برطانیہ کے وزیرِ اعظم رشی سونک نے کہا ہے کہ رواں سال چار جولائی کو ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو 18 برس کے نوجوانوں کے لیے نیشنل سروس کو لازمی قرار دیا جائے گا۔
رشی سونک کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کنزرویٹو پارٹی کی حکومت کے قیام کی صورت میں ایک بار پھر نیشنل سروس کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
کنزرویٹو پارٹی کا بھی کہنا ہے کہ ریاست کو مستقبل کے چیلنجز کے حوالے سے شفافیت اور دیانت دارانہ رائے کا حامل ہونا چاہیے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیشنل سروس اسکیم نوجوانوں کے لیے وہ ممکن بنائے گی جس کے وہ حق دار ہیں۔
سونک کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے پاس ایسے نوجوان افراد موجود ہیں جنہیں وہ موقع نہیں ملا جس کے وہ مستحق ہیں اور اس اقدام سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتِ حال میں معاشرے کو متحد کرنے میں مدد ملے گی۔
کنزرویٹو پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کے منصوبے کے تحت نوجوانوں کو فوج میں 12 ماہ یعنی ایک سال کے لیے فل ٹائم یا ایک سال تک مہینے میں ایک دن رضا کارانہ سرگرمیوں میں وقت گزارنا ہو گا۔
