صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعدایک ہفتے کے دوران امریکہ سے 7 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کرکے ملک بدر کردیا گیا ہے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق ادارے نےغیرقانونی امیگرینٹس کے خلاف کریک ڈاؤن سےمتعلق صدر ٹرمپ کے وعدے پر عمل کیا ہے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے ہفتے میں 7 ہزار 300 غیرقانونی تارکین وطن کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جبری بیدخل کیے گئے افراد میں سے زیادہ تر پر تشدد واقعات میں ملوث افراد تھے۔
یہ کارروائیاں شکاگو، سی ایٹل، اٹلانٹا، بوسٹن، لاس اینجیلس اور نیوآرلینز سمیت مختلف شہروں میں کی گئی ہیں۔
ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق چھاپے اسکولوں اور گرجاگھروں میں بھی مارے گئے ہیں۔ ان گرفتاریوں کے ڈر سے بعض غیرقانونی تارکین وطن نے کام پر جانا اور بچوں کو اسکول بھیجنا تک چھوڑ دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ 97فیصد ایسے افراد ڈپورٹ کیے گئے جنہیں بائیڈن دور میں بیدخلی کا حکم دیا گیا تھا۔بائیڈن دور میں قانون کی خلاف ورزی کی جارہی تھی جو، اب نہیں کی جا رہی۔
امریکہ میں ایک کروڑ 10 لاکھ امیگرینٹس قانونی حیثیت کے بغیر مقیم ہیں،قانونی حیثیت کے بغیر مقیم 14 لاکھ امیگرینٹس کو ڈیپورٹیشن حکمنامہ دیا جاچکا ہے۔ ساڑھے 6 لاکھ سے زائد غیر شہری کرمنل پس منظر کے حامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا اور غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کرنے کا اعلان کیا تھا۔